Home

صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک ہونے کا ’اعزاز‘ پاکستان گزشتہ کئی برس سے حاصل کر رہا ہے اور حالیہ برس بھی جو صررتحال دکھائی دے رہی ہے لگتا ہے ہم اپنے اس ’اعزاز‘ کا ’دفاع‘ کرنے میں یقیناً کامیاب ہی ہوں گے۔

پاکستان صحافیوں کے لیے کس قدر مشکل علاقہ ہے اس حققیت کا ادارک مقامی اداروں، صحافتی تنظیموں اورحکومت کو بھی ہے لیکن صورتحال میں بہتری لانا تو ایک طرف رہا ان خطرات کی نوعیت کیا ہے ان کے اثرات اوراسباب کیا ہیں یہ جاننے کی بھی کبھی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ جب کوئی صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے تو چار دن اس کی ’شہادت‘ پر آنسو بہائے جاتے ہیں، اس کی صحافتی خدمات کا چرچا کیا جاتا ہے کچھ مظاہرے ہوتے ہیں۔ پھر سب کچہ ویسا ہی ہوجاتا ہے لیکن صحافیوں کی زندگی میں خطرات کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔

پاکستان میں ذرائع ابلاغ کی استعداد کار بڑھانے اور اس کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے انٹرمیڈیا نے حال ہی میں قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کو درپیش مشکلات اور خطرات اور جانچنے کے لیے ایک رپورٹ مرتب کی ہے۔ ’رپورٹنگ فرام دی فرنٹ لائنز‘ کے عنوان سے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں میں کام کرنے والے ترانوے فیصد صحافی جانی اور مالی طور پر شدید عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ چوہتہر فیصد صحافیوں کو گزشتہ ایک سال کے دوران دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جان کا خوف تو انہیں مسلح گروہوں اور سیکورٹی اداروں سے ہے لیکن ان کے مالی استحصال کے ذمے دار میڈیا کے ادارے ہیں۔

رپورٹ کی مصنف صدف بیگ کہتی ہیں کہ دراصل مالی عدم تحفظ ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صحافیوں کو جان کا خطرہ مول لینے پر مجبور کرتا ہے۔ فاٹا کے ترپن فیصد صحافی باقاعدہ تنخواہ کے بغیر کام کررہے ہیں اور بعض اوقات تو وہ خبر جو صحافی کی جان لینے کا سبب بنتی ہے ادارے صحافی کی موت کے بعد بھی اس کا معاوضہ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ صدف کے مطابق مالی استحصال نہ صرف صحافیوں بلکہ صحافت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق چھیاسی فیصد صحافیوں کو شورش زدہ علاقوں میں کام کرنے کے باوجود کسی طرح کی میڈیکل یا لائف انشورنس حاصل نہیں۔

انٹرمیڈیا پاکستان کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عدنان رحمت کہتے ہیں کہ گذشتہ چھ برس کے دوران ہر تیس دن میں اوسطاً پاکستان میں ایک صحافی ہلاک ہو رہا ہے ـ لیکن کتنے صحافیوں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، کتنے اغوا ہورہے ہیں اور کتنوں کو دوسرے ذریعوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے اس حوالے سے کہیں بھی مستند اعداد و شمار موجود نہیں۔ عدنان رحمت کے مطابق دوہزار بارہ سے اب تک پاکستان میں چھیاسی صحافی ہلاک ہوئے جن میں ایک افغانی اور ایک امریکی صحافی بھی شامل ہیں لیکن صرف امریکی صحافی ڈینیل پرل کے علاوہ کسی بھی مقدمےمیں قاتلوں کو سزا نہیں ہو سکی جس سے صحافیوں کو دھمکانے اور قتل کرنے والوں کو کھلی چھٹی ملی گئی ہے۔

صرف قبائلی علاقے نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ کراچی اور بلوچستان بھی صحافیوں کے لیے کم خطرناک نہیں۔ کوئٹہ یونین آف جرنلسٹ کے صدر عیسی ترین کے مطابق بلوچستان کے صحافیوں کو سب سے زیادہ خطرہ دکھائی نہ دینے والے اداروں اور تنظیموں سے ہے۔ کبھی صحافیوں پر علیحدگی پسندوں کا ساتھ دینے کا الزام عائد کیا جاتا ہے تو کبھی حکومتی نکتہ نظر کو ترجیع دینے کا۔

عیسی ترین کہتے ہیں کہ گذشتہ تین برس سے تو فرقہ وارانہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے الفاظ اور اصطلاحات کے استعمال پر بھی صحافیوں پر دباو ڈالا جارہا ہے۔ ’ہمیں ایک خاص فرقے کے افراد کو ’کافر‘ اور ان کے قتل پر ’مردار‘ اور ’واصل جہنم‘ کے الفاظ استعمال کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کی جانب سے کالعدم تنظیموں کے بیانات شائع کیے جانے پر پابندی کے بعد تو صحافی ایک اور ہی مشکل میں گرفتار ہوگئے ہیں۔ کالعدم تنظیموں کا موقف شائع نہ کرنے پر جان کا خطرہ اور شائع کرنے پر مقدمات کا سامنا ـ عیسی ترین کے مطابق کالعدم تنظیموں کا موقف شائع کرنے پر کئی صحافیوں پر دہشتگردی کے مقدمات درج ہیں۔

اگر کسی بڑے چینل کے کسی بڑے صحافی کو کہیں سے کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے تو ذرائع ابلاغ پر شور مچ جاتا ہے لیکن خطرے میں کام کرنے والے صحافی کی خبر تو اس کے مر جانے کے بعد ہی نشر کی جاتی ہے وہ بھی اس صورت میں کہ اگر وہ کسی بڑے اخبار یا چینل کا باقاعدہ ملازم ہو۔ پاکستان میں جموریت کے استحکام کی بات اس وقت تک تو محض نعرہ ہی رہے گی جبکہ تک آزادی اظہار کی ضمانت نہیں ہوگی اور ایسی صورتحال میں جہاں صحافیوں کی اکثریت جانی اور مالی عدم تحفظ کا شکار ہو پاکستان میں آزادی اظہار کا گمان صرف خام خیالی ہی ہے۔

Originally published by BBC Urdu on October 5th, 2012, reported by Shumaila Jaffery.

Your feedback is important to us! Tell us what you think.

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s